ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوپی کے سابق وزیر- اعظم خان بالآخر رہا؛ جیل سے باہر نکلنے کے بعد کہا؛خدا اپنوں کو ہی عقل وفراست عطا کرے

یوپی کے سابق وزیر- اعظم خان بالآخر رہا؛ جیل سے باہر نکلنے کے بعد کہا؛خدا اپنوں کو ہی عقل وفراست عطا کرے

Sat, 21 May 2022 12:44:58    S.O. News Service

رامپور، 21؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی، یوپی کے سابق اور مسلم رہنما وزیر محمد اعظم خان  26 ماہ اور 24 دنوں تک جیل کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد بالآخر جمعہ کو جیل سے رہا ہوگئے۔ اس موقع پر جیل میں ان سے ملنے والوں اور نہ ملنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نےطنزیہ انداز میں کہا ’میرے ساتھ جو کچھ بھی پیش آیا اس میں اپنوں کا ہی ہاتھ تھا، خدا ایسے لوگوں کو عقل وفراست عطا کرے ۔‘

اعظم خان نے اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ایس پی صدر اکھلیش یادو کے ساتھ اختلافات کے سوال پر کہا ’’میں صرف اتنا کہوں گا کہ تباہی میں اپنوں کا ہاتھ ہے ۔ خدا ایسے لوگوں کو عقل عطا کرے ۔ ان کی رہائی میں پارٹی کے تعاون کے سوال پر انہوں نے کہا ’ کس کا کتنا تعاون ہے ،سب جانتے ہیں ۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا ’’میری تباہی میں میرا اپنا ہاتھ ہے۔ ہم پر مقدمے دائر کرنے والے کون لوگ ہیں‘‘۔

ایس پی کے سربراہ کی طرف سے جیل بھیجے گئے وفد سے ملاقات نہ کرنے کی وجہ انہوں نے صحت خراب ہونا بتایا۔ اعظم خان نے کہا ’’ مجھے ملنے والوں اور نہ ملنے والوں کا شکریہ ۔ میں کسی کو گنہگارنہیں مانتا ہوں ۔ ہم نے اپنےسیاسی آقاؤں کے جوتے اس لئےسیدھے نہیں کئے کیونکہ ہمیں سونے اور چاندی کے کنگن نہیں چاہئے تھے ‘‘۔

اپنی رہائش گاہ پر ایک بڑے قافلے کے ساتھ اعظم خان کا استقبال وہاں پہلے سے موجود ہزاروں حامیوں نے کیا ۔ گھر کے باہر ممتاز پارک کے کنارے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اعظم خان نے کہا ’’ہم نے یہ گلیاں ساڑھے تین سال بعد دیکھی ہیں ‘‘۔

ہم زندہ کھڑے ہیں، یہ ایک معجزہ ہے ، کیونکہ جہاں ہمیں رکھا گیا تھا، وہاں انگریزوں کے دور کی کال کوٹھری ہے ۔ جہاں اگلے روز پھانسی دے جاتی تھی ۔ ہمارے برابر میں پھانسی گھر بھی تھا ۔ بیوی بچوں کے آنے کے بعد صبح ہوتی تھی، تو شام کا انتظار اور رات ہوتی تو صبح کا انتظار ہوتا تھا ۔

انہوں نے کہا’’ہمارے آپ کے درمیان جو رشتے ہیں اس میں جدائی کا کوئی خیال نہیں تھا۔ جب بہت چھوٹے تھے تو ایمرجنسی لگائی گئی تھی اور جب ہم علی گڑھ میں یونین سکریٹری تھے تو ہمیں گرفتار ہونا پڑا تھا ۔ پونے دو سال بنارس جیل میں بند رہے، جب زندگی کی شروعات تھی ۔انہوں پر عظم لہجے میں کہا کہ 40 سال کے سفر میں ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔


Share: